پلاسٹک سرجری کے خلاف مولویوں کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی
ہے کہ یہ الله کی تخلیق کو خراب کرنا ہے. تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر آپ گھر بناتے
وقت یہ دلیل کیوں بھول جاتے ہیں؟ خالی زمین پر رہ لیں، یا غاروں میں گزر بسر کریں.
آپکے بڑے بڑے گھروں کیلئے کتنی ہی اینٹیں، بجری اور لکڑی درکار ہوتی ہے جو کہ سب خدا
کی تخلیق ہے. اپنی چند خواہشات کی خاطر آپ الله تعالی کی اتنی تخلیقات کو خراب کرتے ہیں. کیوں؟
پیزا، برگر، پیپسی، کوک اور طرح طرح کے مشروبات بھی کسی طرح ہماری ضروریات
میں نہیں آتے. بلکہ ایک طرح کی عیاشی ہیں. تو ان کو بنانے کیلئے بھی خدا کی بہت سی تخلیقات برباد کی جاتی ہیں. پیزے، برگر اور کڑاہیوں میں ڈالنے کیلئے گوشت کے حصول کیلئے ہر روز ہزاروں جانور ذبح ہوتے ہیں وہ سب الله کی تخلیق نہیں؟ اگر ہیں تو پھر یہ سب چیزیں حرام ٹھہریں؟
مولوی
حضرات کے زیر استعمال بہت سی اشیاء جو انکے پیشے کیلئے لازم و ملزم بن چکی ہیں وہ بھی بنیادی ضروریات نہیں بلکہ عیاشی کے زمرے میں ا سکتی ہیں، تو ان سب چیزوں کے حصول کیلئے کتنے ہی کپاس کے پودے اکھاڑ دیے جاتے ہیں اور درختوں کا برا حال کر دیا جاتا ہے. کیا وہ سب الله کی
خوبصورت تخلیق نہیں؟ اور اگر یہ سب جائز ہے تو پھر پلاسٹک سرجری کیوں حرام ہے؟
اسی الله تعالیٰ نے بہت سے لوگوں کو غریب پیدا کیا، تو انکے لیے پیسے کمانا حرام ٹھہرا کہ انکو الله نے غریب بنایا ہے؟ مجھے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی. آپکو آتی ہو تو بتایں.
اسی الله تعالیٰ نے بہت سے لوگوں کو غریب پیدا کیا، تو انکے لیے پیسے کمانا حرام ٹھہرا کہ انکو الله نے غریب بنایا ہے؟ مجھے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی. آپکو آتی ہو تو بتایں.







