ہمارے ہاں آج کل ٹی وی پروگراموں میں بات بات پر عوامی مینڈیٹ کی بات کی جاتی ہے. مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ لوگ آخر کس عوام کی بات کرتے ہیں؟ وہ عوام جو تھانے میں چھتر کھاتی ہے؟ یا وہ عوام جو دو کلو چینی لینے کے لیے دو کلومیٹر لمبی قطار بنا کر کھڑی ہوتی ہے؟ یا وہ عوام جو گٹروں کا پانی پتی ہے؟ یا وہ عوام جو کلف ملا دودھ پی کر پل بڑھ رہی ہے؟ یا وہ عوام جو مرچوں کی جگہ پسی ہوئی اینٹیں کھا رہی ہے؟ یا وو عوام جو سستا آٹا لینے کے لیے ڈیڑھ میل لمبی لاین بنا کر کھڑی ہوتی ہے؟ یا وہ جو کتوں، بلیوں اور مردہ انسانوں کا گوشت کھا رہی ہے؟
الله کرے کہ کسی دن یہ سیاستدان ہمیں اس عوام کا کوئی اتا پتا دیں تو ہم اس سے جا کر پوچھیں کہ بھائیو تمیں کس پاگل کتے نے کاٹا تھا جو تم نے ان چوروں کو "مینڈیٹ" دیا تھا!
